پاکستان
پاکستان کے خلاف جو بھی اسلحہ اٹھاتا ہے وہ دہشتگرد ہے: سہیل آفریدی
27-ستمبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
26 وزٹ
ڈیرہ اسماعیل خان: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف جو بھی اسلحہ اٹھاتا ہے، وہ دہشتگرد ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
ڈی آئی خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے درازندہ میں ہونے والے دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار بھی اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے امن و امان کے قیام اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے خطیر رقم فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے پولیس کو اضافی وسائل فراہم کیے ہیں تاکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں اہلکاروں کو ضروری سہولیات میسر ہوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام مزید جانی نقصان نہیں چاہتے اور حکومت کو احساس ہے کہ دہشتگردی کے باعث بچے، خواتین، عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کی لہر میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو شہید پیکیج دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی صرف خیبر پختونخوا کا مسئلہ نہیں، اگر اسے مؤثر انداز میں نہ روکا گیا تو اس کے اثرات ملک کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے امن کے لیے اجتماعی کوششوں اور پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے یہ بیانات ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں حالیہ دھماکے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جس میں پولیس اہلکاروں، کسٹمز اہلکاروں اور شہریوں سمیت متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔
ڈی آئی خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے درازندہ میں ہونے والے دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار بھی اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے امن و امان کے قیام اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے خطیر رقم فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے پولیس کو اضافی وسائل فراہم کیے ہیں تاکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں اہلکاروں کو ضروری سہولیات میسر ہوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام مزید جانی نقصان نہیں چاہتے اور حکومت کو احساس ہے کہ دہشتگردی کے باعث بچے، خواتین، عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کی لہر میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو شہید پیکیج دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی صرف خیبر پختونخوا کا مسئلہ نہیں، اگر اسے مؤثر انداز میں نہ روکا گیا تو اس کے اثرات ملک کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے امن کے لیے اجتماعی کوششوں اور پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے یہ بیانات ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں حالیہ دھماکے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جس میں پولیس اہلکاروں، کسٹمز اہلکاروں اور شہریوں سمیت متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں