Mansehra.com مانسہرہ ڈاٹ کام
14 ربیع الثانی 1448 ہجری اتوار، 27 ستمبر 2026·13 اسو
آج کی حدیث ´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں“۔(سنن ابن ماجہ۔باب نمبر35۔حدیث نمبر3829)
تازہ ترین
سیاحتی مقامات

ناران: سیاحتی مقام سے قدرتی ورثہ تک — تعمیرات، تجاوزات اور ماحولیاتی خطرات کا جائزہ

27-ستمبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 31 وزٹ
ناران – ناران کبھی صرف ایک سیاحتی مقام نہیں تھا۔ یہ جنگل، دریا، سبز میدان، پہاڑ اور کھلے مناظر کا ایک مکمل قدرتی نظام تھا۔ لیکن گزشتہ برسوں میں ناران اور کاغان ویلی میں ہوٹلوں، دکانوں اور دوسری تعمیرات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تعمیرات کی رفتار ہماری منصوبہ بندی سے بھی زیادہ تیز ہوگئی ہے؟
غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات
یہ صرف ایک تاثر نہیں۔ سرکاری اداروں اور عدالتی ریکارڈ میں ناران اور دریائے کنہار کے کنارے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے مسائل کئی مرتبہ سامنے آ چکے ہیں۔
2020: ہزارہ کے کمشنر نے ناران اور کاغان ویلی کے دورے کے دوران دریائے کنہار کے کنارے غیر قانونی تعمیرات، دریا کے بہاؤ میں رکاوٹ اور ریت و بجری کے غیر قانونی اخراج کا نوٹس لیا تھا۔ اسی کارروائی میں تقریباً 20 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
2021: انتظامیہ نے ناران، کاغان اور جھیل روڈ کے اطراف 129 غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا، جن میں ہوٹل، دکانیں اور مکانات شامل تھے۔
بعد کی کارروائی میں:
· 6 غیر قانونی ہوٹل مکمل طور پر گرائے گئے
· 22 ہوٹلوں کی عمارتوں کے غیر قانونی حصے توڑے گئے
· 6,000 سے زیادہ غیر قانونی کیبن ہٹائے گئے
· 700 کنال سے زیادہ سرکاری زمین واگزار کرانے کی اطلاع دی گئی
· بعض ہوٹلوں کا سیوریج جھیل سیف الملوک کو آلودہ کر رہا تھا
مسئلہ صرف تعمیرات نہیں، دریا بھی ہے
دریائے کنہار کے کنارے تعمیرات کا مسئلہ نیا نہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے ریکارڈ میں ناران کے ایک تعمیراتی معاملے کے حوالے سے یہ بات درج ہے کہ بعض ہوٹلوں کا سیوریج براہِ راست دریا میں جا رہا تھا اور علاقے کے لیے باقاعدہ Sewerage Waste Management Plan کی ضرورت ہے۔ اسی ریکارڈ میں دریائے کنہار کے قدرتی بہاؤ اور ٹراؤٹ کے مسکن کو متاثر ہونے کا بھی ذکر موجود ہے۔
یہ ایک بہت اہم بات ہے۔ دریا کے کنارے ہوٹل بنانا صرف زمین کا مسئلہ نہیں ہوتا، اس کا تعلق پانی، مچھلی، جنگلی حیات اور پورے ماحولیاتی نظام سے ہوتا ہے۔
2014: ناران میں دریائے کنہار کے بیڈ پر بننے والی NHA کی ایک عمارت بھی ماحولیاتی اور دریائی قوانین کی خلاف ورزی کے معاملے میں سیل کی گئی تھی۔ حکام نے اس تعمیر سے دریائی راستے اور ٹراؤٹ کے قدرتی مسکن کو متاثر ہونے کی نشاندہی کی تھی۔
ٹیکس کا معاملہ بھی موجود ہے
ناران کی معیشت صرف سیاحوں کی آمد تک محدود نہیں۔ یہاں ہوٹل، ریسٹورنٹس اور دوسری سیاحتی کاروباری سرگرمیاں ایک بڑی مقامی معیشت بن چکی ہیں۔
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) کے مطابق:
· ناران ویلی کے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کا ڈیٹا حاصل کر کے انہیں ٹیکس رجسٹریشن کے نوٹس دیے گئے
· بعد میں تقریباً 200 ہوٹلوں کو ٹیکس کے لیے رجسٹر کیا گیا
· 2023: KPRA کو ناران کے ایک ہوٹل کی ٹیکس انوائس سے متعلق شکایت موصول ہوئی
· جون 2026: KPRA کی ٹیم نے ناران کے 21 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کا معائنہ کیا، بعض کاروباروں کے ریکارڈ میں خامیاں ملیں اور کچھ کو مناسب ٹیکس انوائس جاری نہ کرنے پر نوٹس دیے گئے
یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ "کتنا پیسہ کمایا جا رہا ہے؟" اصل سوال یہ ہے: اس پوری سیاحتی معیشت کو قانون، ٹیکس اور ماحولیاتی اصولوں کے مطابق کس حد تک چلایا جا رہا ہے؟
ناران کا اگلا مرحلہ کیا ہونا چاہیے؟
2026 میں بھی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔
جولائی 2026: ناران میں ایک سرکاری فورم کے دوران حکام نے دریائے کنہار کے کناروں اور محفوظ علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات پر کارروائی کی بات کی اور کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ہونے والی تعمیرات کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ غیر منظم تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی نے وادی کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی کردار کو متاثر کیا ہے۔
اسی سال ایک سرکاری خبر میں KDA کی جانب سے ہوٹلوں کے sewerage systems میں وسیع خامیوں کا ذکر بھی سامنے آیا، جبکہ ناران اور بالائی کاغان میں غیر منظم تعمیرات کو کنٹرول کرنے کے لیے Master Plan اور Zone Plan پر کام کی بات کی گئی۔
سوال بدلنے کا وقت
تو شاید ہمیں ناران کے بارے میں اپنا سوال بدلنا ہوگا۔
سوال یہ نہیں کہ۔۔ "ناران میں مزید کتنے ہوٹل بن سکتے ہیں؟"
سوال یہ ہونا چاہیے: "ناران اپنی قدرتی حدود میں کتنی سیاحت برداشت کر سکتا ہے؟"
کیونکہ ہوٹل دوبارہ بن سکتے ہیں۔ سڑکیں دوبارہ بن سکتی ہیں۔ عمارتیں دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہیں۔
لیکن اگر کنہار کا قدرتی نظام، جنگلات اور وادی کا اصل حسن ختم ہو گیا تو صرف عمارتیں باقی رہ جائیں گی۔
ناران کو سیاحوں کی ضرورت ہے، لیکن ایسی سیاحت کی جو ناران کو کھا نہ جائے۔
اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ناران کو صرف Tourist Destination نہیں بلکہ ایک Natural Heritage سمجھا جائے۔
تحقیق: حسنین چن بابو
ڈس کلیمر: یہ مضمون زبانی تاریخ اور ثقافتی تحقیق پر مبنی ہے، صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔